15 اپریل 2012 - 19:30

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ نے سہ پہرکو وزیر داخلہ اور محکمہ پولیس میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے جانشین ،اعلی پولیس افسروں اور پولیس کے بعض دیگر اعلی اہلکاروں اور کارکنوں کے ساتھ ملاقات میں عوام کی رضایت و خوشنودی کو اللہ تعالی کی رضایت اور خوشنوی کے حصول کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر اعلی حکام، عوام کے لئے آرام و آسائش اور امن و سکون کی فضا فراہم کرسکنے میں کامیاب ہوجائیں تو وہ اللہ تعالی کی مرضی اور خوشنودی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

ابنا: رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے پولیس اہلکاروں کو اسلامی نظام کے سربازقراردیا اور امن و سلامتی کو بنیادی ضروریات اور منظم و مرتب منصوبہ سازی کی راہ ہموار کرنے کے لئے اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: چنانچہ کسی ملک و معاشرے اور سماج میں امن و سلامتی موجود نہ ہو تو اس  ملک و معاشرے میں منظم و مرتب پیشرفت و ترقی ممکن نہیں ہوگي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اجتماعی عقل و دانش پر مبنی منصوبوں کی ضرورت پر تاکید کی اور ملک کی آگے کی سمت پیشرفت و ترقی کے لئے دلسوزانہ اور مجاہدانہ کوشش  پر زور دیا معاشرے کے اندر آرام و سکون اور امن و سلامتی کو پیشرفت کے لئے ضروری قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض اداری اور انفرادی نقصانات وخطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ممکن ہے بعض افراد ذہنی اور نفسیاتی خطرات سے دوچار ہوجائیں اسی طرح اداروں کو بھی خطرات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذا اس سلسلے میں ہمیشہ دقیق  نظارت اور نگرانی کو عمل میں لانا چاہیے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امانت، دیانت، صداقت اور اداری ذمہ داری انجام دینے پر توجہ اور اسی طرح معاشرے کے مفادات کو شخصی اور ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کوملک کی ترقی و پیشرفت کی راہ ہموار کرنے کے لئے اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر کسی معاشرے میں اس جذبے کے ساتھ کام کرنے والے افراد موجود ہوں تو وہ معاشرہ  بلند چوٹیوں تک پہنچ جائےگااور دائمی اور استوار طاقت کا حامل بن جائےگا۔

اس ملاقات کے آغاز اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی پولیس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل احمدی مقدم نے جرائم پر قابو پانے ، منشیات کو کشف و ضبط کرنے، سرحدی شعبہ میں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئرمیں پیشرفت ، پولیس کی طرف سے عوامی خدمات اور پولیس کے متعلق عوام کی رضایت اور اعتماد کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کی.

.......

/169